جدید طرز زندگی اور مستقل معلومات کے بہاؤ نے ہمارے دماغ پر نمایاں دباؤ ڈال دیا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ "زیادہ سے زیادہ کام کرنا" ایک مثبت خصوصیت ہے، حالانکہ زیادہ دماغی فعالیت ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتی۔ ذہنی تھکن کا عمل، اس وقت ہوتا ہے جب دماغی سرگرمی کی مقدار بحالی کی صلاحیت سے تجاوز کر جائے، جس کے نتیجے میں صحت کے کئی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ ذہنی تھکن کیسا خطرہ ہے، یہ جسم میں کیمیائی عمل جیسے کورٹیسول اور گلوٹامیٹ کی سطح میں اضافے کے ساتھ کس طرح جڑا ہوا ہے، اور اس کے اثرات کو کم کرنے کے طریقے۔ تحقیقات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ دماغی تھکن اور خودکار عصبی نظام کی خرابی جیسے علامات کے بارے میں محتاط رہنے سے سنگین بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ یہ سیکھنا ضروری ہے کہ اپنے وسائل کو صحیح طریقے سے کیسے منظم کیا جائے، دماغی بوجھ کو کس طرح تقسیم کیا جائے اور کام کے دوران وقفے کیسے کیے جائیں۔